پھوپھی ہوں تو ایسی:

حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نہایت دلیر اور نڈر خاتون تھیں۔ آپ دورانِ جنگ بے خوف و خطر زخمیوں کو میدانِ جنگ سے باہر لاتیں اور ان کی مرہم پٹی کرتی تھیں۔ غزوۂاحد میں آپ کے بھائی حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو کفار نے شہید کرنے کے بعد لاش کے ناک کان کاٹ ڈالے، آنکھیں نکال لیں اور سینہ چیر کر دل اور جگر چبا  لیا۔ لاش کی ایسی  حالت دیکھنے کی ہمت ہر ایک میں نہ تھی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی منع فرمادیا تھا کہ میری پھوپھی کو اپنے بھائی کی لاش تک نہ پہنچنے دینا۔لیکن یہ کسی نہ کسی طرح وہاں تک پہنچ گئیں، صبر و حوصلہ سے اپنے بھائی کی لاش کو دیکھا، انا للہ پڑھی اور یہ عظیم جملہ ارشاد فرمایا میں خدا کی راہ میں اس قربانی کو بھی بڑا نہیں سمجھتی۔

غزوۂاحد میں جب مسلمانوں کا لشکر بکھر گیا، حضرت صفیہ بپھری ہوئی شیرنی کی طرح کفار پر نیزہ چلاتی رہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی بہادری پر تعجب ہوا اور آپ نے ان کے بیٹے سے فرمایا: زبیر اپنی ماں اور میری پھوپھی کی بہادری تو دیکھو، بڑے بڑے بہادر بھاگ گئے مگر یہ اکیلی ڈٹی ہوئی ہیں۔

غزوۂخندق کے موقع پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ہمراہ مدینہ سے باہر تھے۔ مدینہ میں خواتین ایک بڑے گھر میں اکٹھی تھیں۔ ایک یہودی موقع مناسب سمجھ کر سن گن لینے گھر کے قریب پہنچ گیا۔حضرت صفیہ نے لکڑے سے حملہ کرکے اس کا سر پھاڑ دیا ۔ پھر اس کا سر کاٹ کر گھر سے باہر پھینک دیا۔ باہر کھڑے اس کے ساتھیوں پر ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ دم دبا کر بھاگ اٹھے۔ انہیں یقین ہوگیا کہ اس گھر میں مسلمانوں کی فوج ہے۔اس کے بعد کسی میں اتنی ہمت نہ ہوئی کہ مسلمان خواتین پر حملہ کرتا۔ جنگ کے بعد جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت صفیہ کی اس دلیری کی اطلاع ہوئی تو آپ بہت خوش ہوئے اور  فرمایا:آخر پھوپھی کس کی ہیں!

Read Previous

بحری جنگ کی پہلی شہید خاتون

Read Next

وہ کوئی اور نہ تھا چند خشک پتے تھے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *