بحری جنگ کی پہلی شہید خاتون

حضرت اُمِ حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا ننھیالی رشتے سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی خالہ لگتی تھیں ۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لے گئے، کھانا کھایا اور سونے لیٹ گئے ۔ تھوڑی دیر بعد نیند سے بیدار ہوئے تو چہرہ مبارک پر تبسم تھا۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے اپنی امت کے کچھ لوگوں کو سمندر میں جہاد کے لیے سفر کرتے دیکھاہے ۔ حضرت اُمِ حرام نے عرض کیا:  یارسول اللہ! میرے لیے دعا فرمائیے کہ میں اس جہاد میں شریک ہوں۔آپ خاموش ہوگئے، تھوڑی دیر بعد پھر آنکھ لگ گئی، جب بیدار ہوئے تو  چہرۂانور پر پھر تبسم تھا۔آپ نے فرمایا: میں نے اپنی امت کے کچھ لوگوں کو سمندر میں جہاد کے لیے سفر کرتے دیکھاہے۔ حضرت اُمِ حرام نے پھر اپنے لیے دعا کروائی تو آپ نے فرمایا:اُمِ حرام!مبارک ہو تم بھی اس جہاد میں شریک ہو ۔حضرت اُمِ حرام یہ بشارت سن کر خوش ہوگئیں۔

اس واقعے کے برسوں بعد جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت آیا تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے قبرص اور دیگر علاقوں کو فتح کرنے کے لیے ایک جنگی بحری بیڑہ تیار کیا ۔ جو صحابہ اس جہاد میں شریک تھے ان میں اپنے خاوند کے ساتھ حضرت اُمِ حرام بھی شامل تھیں۔اللہ نے اسلامی لشکر کو فتح دی اور قبرص پر اسلامی پرچم لہرانے لگا ۔ واپسی کا سفر شروع ہوا تو حضرت اُمِ حرام اپنے گھوڑے پر سوار ہوئیں ، ان کا گھوڑا کسی چیز سے بدکا اور حضرت اُمِ حرام زمین پر گر گئیں ، انہیں شدید چوٹیں آئیں  جن کے باعث ان کا انتقال ہوگیا۔ قبرص میں حضرت اُمِ حرام بنت ملحان کی قبر مبارک موجود ہے۔

محترم ماؤں اور بہنو!  اگرچہ آج وہ دور نہیں کہ ہم میدانِ جہاد میں جاسکیں لیکن اپنے نفس سے جہاد کرنے کا میدان کھلا ہوا ہے۔نفس سے جہاد یہ ہے کہ ہر گناہ کے کام سے بچیں چاہے کتنی ہی تکلیف کیوں نہ ہو، چاہے دل خون ہی کیوں نہ برسائے  اور ہر فرض واجب اور سنت مؤکدہ پر عمل کریں چاہے کتنا ہی دشوار کیوں نہ محسوس ہو۔اگر آپ نے یہ کرلیا تو کیا عجب کہ کل قیامت کے دن  اللہ تعالیٰ آپ کو بھی شہداء کے برابر نہیں تو ان کی معیت میں ہی کوئی جگہ عطا فرمادیں۔ ان کی رحمت سے کچھ بعید نہیں!!!

Read Previous

عورتوں سے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات

Read Next

پھوپھی ہوں تو ایسی:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *